حضور اکرم صل الله عليه وسلم كے زمانے میں ایک صاحب رضی اللہ عنہ نے کسی قبیلے کا اونٹ چوری کرنے کا اقرار کیا، تحقیقات کے بعد حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ و سلم نے انکا ھاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔ ان صحابی رضی اللہ عنہ نے اس کٹے ہوئے ھاتھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ھیں جس نے مجھے تجھ سے پاک کردیا ورنہ تو نے تو میرے جسم کو جھنم میں داخل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا. صحابی رضی اللہ عنہ کا نام بتائیں؟
- A. حضرت ثعلبہ رض
- B. حضرت حبيب رض
- C. حضرت ابو ضمرہ رض
- D. حضرت عمرو بن سمرہ رض
Explanation
اس واقعے میں حضرت عمرو بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے چوری کا اقرار کیا اور شرعی حکم کے مطابق ان کا ہاتھ کاٹا گیا۔ کٹے ہوئے ہاتھ سے خطاب والا قول بھی اسی واقعے سے منسوب ہے۔
Related questions
حضرت یعقوبؑ علیہ السلام کی وفات پر اہل مصر کتنے دنوں تک روئے _______ البدایہ ص 120 ج 1؟
پطرس کے مضامیں چھپ گئے/گیا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کن صحابی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بنی عامر میں سب سے عمدہ سواروں میں سے ہیں ؟
عرب کا مشہور شہر خیبر جزیرہ نما عرب کے کس علاقہ میں واقع ہے ؟
حدیبیہ مکرمہ سے تقریباٙٙ کتنے کلومیڑ دور ہے ؟